Загрузка...

2026 | Lahore | 1st April | Hamdard Shura Pakistan | Prof Dr. Perveen Khan

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان سمیت پورے علاقے میں غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ حالیہ عالمی اور علاقائی تنازعات نے عوام کے ذہنوں میں خوف اور اضطراب پیدا کر دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف سیاسی یا معاشی سطح تک محدود ہیں بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی پر بھی نمایاں ہیں۔ پٹرول کی قلت، قیمتوں میں اضافہ، سفری مشکلات اور ہوائی اڈوں کی بندش نے مجموعی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ اس تناظر میں ہمدرد شوریٰ پاکستان، لاہور نے یکم اپریل کو ہوٹل فلیٹیز لاہور کے بورڈ روم اے میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسیز کے ڈین ڈاکٹر نوید الٰہی، بین الاقوامی امور کے ماہر جناب عثمان شاہد اور میڈیکل سپریڈنٹ فاؤنٹین ہاؤس وماہر نفسیات جناب ڈاکٹر عمران مرتضیٰ نے خصوصی طور اظہار خیال کیا،تلاوت کلام مجید کی سعادت قاری خالد محمود نے حاصل کی جبکہ اسپیکر کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم نبھائے۔معزز ممبران ہمدردشوریٰ لاہورمیں محترمہ جسٹس ناصرجاوید اقبال،جناب قیوم نظامی،جناب احمد اویس، جناب ڈاکٹر سید عمران مرتضی،جناب کاشف ادیب جاویدانی،جناب رانا امیر احمد خان، جناب محمد شعیب مرزا،جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی شامل تھے، بحیثیت مبصرین انجینئر محمد آصف،پروفیسرایم اے صدیقی،جناب علی رضا،محترمہ آمنہ صدیقی،جناب ایم آر شاہد،جناب محمد نصیر الحق ہاشمی،جناب ڈاکٹر حافظ یاسر معراج،محترمہ ڈاکٹر پروین اے خان،جناب خالد اعجاز مفتی،پروفیسر افتخار رسول ودیگر نے شرکت کی، اس موقع پر طلباء و طالبات بھی موجود تھے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی کا اثر انسانی ذہن پر براہ راست پڑ رہا ہے۔ مسلسل غیر یقینی صورتحال عوام کے لیے ذہنی دباؤ کی وجہ بن رہی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی اور نفسیاتی صحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان میں معاشی دباؤ پہلے سے موجود ہے اور حالیہ عالمی کشیدگی نے اسے مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھیں، مستند معلومات حاصل کریں، معمولاتِ زندگی برقرار رکھیں، متوازن غذا، مناسب نیند اور ہلکی جسمانی سرگرمی کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کریں۔عالمی یوم صحت کا اس سال کے تھیم بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ "صحت کی حفاظت، سائنس کے ساتھ"، ہمیں چاہیے کہ ہم مشکل حالات میں بھی سائنسی اور متوازن طرزِ زندگی اختیار کریں تاکہ ذہنی سکون اور جسمانی صحت برقرار رہے۔ جنگی حالات اور دیگر بحرانوں کے دوران انسانی جانوں کے ضیاع، انفراسٹرکچر کی تباہی اور تعلیمی اداروں کی نقصان دہ صورتحال نے مستقبل کی نسلوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ خطے میں جاری تنازعات، عالمی طاقتوں کی پالیسیاں اور بعض ممالک کے عدم استحکام کے استعمال نے صورتحال کو پیچیدہ بنادیا ہے۔
اس کے ساتھ عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات بھی نہایت تشویشناک ہیں اور غیر یقینی صورتحال کے طویل مدتی نتائج خطے کے لیے بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
اجلاس کے دوران معاشرتی، تعلیمی اور معاشی پہلوؤں پر بھی بحث ہوئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ
٭ نوجوان نسل کی تربیت اور آگاہی انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ موجودہ عالمی حالات کو سمجھیں اور اتحاد و یکجہتی
کے اصول کو اپنائیں۔
٭ پیمرا اور دیگر ریگولیٹری اداروں کا کردار اس ضمن میں کلیدی ہے۔تعلیمی اداروں کی حفاظت اور طلبہ کی تربیت بھی
اس بحران سے نمٹنے کے لیے اہم ہے۔ نوجوانوں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت دی جائے، جیسا کہ ابتدائی
طبی امداد، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور دیگر حفاظتی اقدامات، ایسا کرنے سے معاشرہ نہ صرف باخبر ہوگا بلکہ تیار بھی ہوگا۔
٭ پاکستان میں عوام کو فرقہ وارانہ تقسیم کے بجائے متحد رہنے کی ضرورت ہے،کیونکہ داخلی تقسیم دشمن قوتوں کے لیے
مداخلت کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
٭ ایران کی موجودہ صورتحال میں عوام کی یکجہتی اور حکومت کی حمایت نے عالمی سطح پر نفسیاتی برتری حاصل کی،
جس سے ہم سبق سیکھ سکتے ہیں کہ داخلی اتحاد کس حد تک اہم ہے۔
٭ پاکستان نے اب تک متوازن خارجہ پالیسی اختیار کی ہے،جسے قابل تحسین قرار دیا گیا۔ عوام کو بھی چاہیے کہ
وہ غیر مصدقہ خبروں اور سنسنی خیز مواد سے دور رہیں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
٭ پاکستان کی دفاعی اور سفارتی کامیابیاں عوام میں فخر اور اعتماد پیدا کرتی ہیں اور ان کا مثبت پیغام تعلیم اور میڈیا کے
ذریعے نوجوانوں تک پہنچایا جانا چاہیے۔
٭ خاندانی ماحول میں مثبت گفتگو، حوصلہ افزائی اور اخلاقی تربیت کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ نئی نسل ذہنی، اخلاقی
اور عملی طور پر مضبوط ہو۔
٭ مسلم قوم کو متحد ہونا ہوگا، فرقہ وارانہ تقسیم کو ختم کرنا ہوگا اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ہوگا۔
٭ معاشی پالیسیز، صحت، تعلیم اور معلومات کی درستگی پر توجہ دینا بھی ناگزیر ہے۔
٭ ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے باقاعدہ نیند اور متوازن غذا کو فروغ دیا جائے۔
٭ معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
٭ سوشل میڈیا پر جھوٹے اور سنسنی خیز مواد کے اثرات سے بچاؤ کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی بڑھائی جائے۔
٭ نماز، قرآن پاک کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کے ذریعے ذہنی سکون کو فروغ دیا جائے۔
٭ تعلیمی اداروں کی حفاظت اور فعال رہنمائی کو یقینی بنایا جائے۔
٭ عوام میں تحمل، صبر اور ذمہ داری کے جذبات کو فروغ دیا جائے۔
٭ حکومت اور متعلقہ ادارے عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے رہنمائی فراہم کریں۔
٭ طلبہ وطالبات اور نوجوان رات کو جاگنے کی عادت ختم کریں،ذہنی صحت کے لیے روزانہ 8سے7 گھنٹے نیند،
سوشل میڈیا کا وقت محدود کریں، روزانہ کم از کم 20-30 منٹ واک کی جائے۔
٭ خاندان میں ایک دوسرے کو وقت دیں،مشترکہ کھانے کی عادت،بزرگوں کا احترام اوربچوں کی تربیت کریں۔
٭ معاشرے میں ایمانداری کو فروغ اور چھوٹے کاروبار کو سپورٹ کیا جائے۔
٭ تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت لازمی ہو،صرف ڈگری نہیں کردار سازی ہو۔

Видео 2026 | Lahore | 1st April | Hamdard Shura Pakistan | Prof Dr. Perveen Khan канала Hamdard Foundation Pakistan
Яндекс.Метрика
Все заметки Новая заметка Страницу в заметки
Страницу в закладки Мои закладки
На информационно-развлекательном портале SALDA.WS применяются cookie-файлы. Нажимая кнопку Принять, вы подтверждаете свое согласие на их использование.
О CookiesНапомнить позжеПринять