- Популярные видео
- Авто
- Видео-блоги
- ДТП, аварии
- Для маленьких
- Еда, напитки
- Животные
- Закон и право
- Знаменитости
- Игры
- Искусство
- Комедии
- Красота, мода
- Кулинария, рецепты
- Люди
- Мото
- Музыка
- Мультфильмы
- Наука, технологии
- Новости
- Образование
- Политика
- Праздники
- Приколы
- Природа
- Происшествия
- Путешествия
- Развлечения
- Ржач
- Семья
- Сериалы
- Спорт
- Стиль жизни
- ТВ передачи
- Танцы
- Технологии
- Товары
- Ужасы
- Фильмы
- Шоу-бизнес
- Юмор
2026 | Rawalpindi/Islamabad | 7th April | Hamdard Shura Pakistan | Naaem Akram
ہمدرد شوریٰ (راولپنڈی/ اسلام آباد)کے اجلاس میں اسپیکر محترم امتیاز حیدر، محترم ڈاکٹر فرحت عباس،محترم طارق شاہین،محترم حکیم بشیر بھیروی،محترم پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد،محترم نعیم اکرم قریشی، محترم نیاز محمد عرفان،اور محترمہ سلمیٰ قاصر شامل تھیں۔
محترم اسپیکر نے اجلاس کی کاروائی کا با قاعدہ آغاز کرتے ہوئے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ آج کا عنوان انسان کی ذہنی کیفیت کو مکمل طور پر بیان کرتا ہے کیونکہ آج کا انسان صرف بیرونی مسائل کا شکار نہیں بلکہ اندرونی بے چینی،ذہنی دباؤ اور مسلسل اضطراب میں بھی مبتلا ہے۔ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جو تیزی سے بدل رہی ہے جہاں آ ج کی جدید دنیا میں سہولیات کا اضافہ ہوا ہے وہیں انسان کا سکون بھی بہت متاثر ہوا ہے۔
موضوع پر تفصیلی بحث کے لیے اسپیکر نے فا ضل اراکین شوریٰ کو اظہار ِ خیال کی دعو ت دی۔
٭پاکستان کا قیام ہمارے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہے۔قیا م ِ پاکستان کے بعد آج تک ہم مشکل وقت سے گزر رہے ہیں ہمارے ہاں کوئی مستقل منصوبہ بندی نہیں ہے معیشت میں بھی استحکام نہیں ہے۔پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے پائیدار اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے سیاست میں استحکام بہت ضروری ہے آج کا ہر بچہ اور نوجوان مضطرب ذہن کا شکار ہے۔صبر و شکر کا دامن ہر گز نہ چھوڑیں۔ہمیں سب سے پہلے اپنے گھر کو سکون میں رکھنا ہے اپنے اہل ِ خانہ کے ساتھ وقت گزاریں اور دوستوں کے ساتھ مثبت وقت گزارا جائے جب آپ کا ذہن مثبت سوچ کا حامل ہو گا تو ایک صحت مند معاشرہ کی تشکیل ہوگی اور ایک مضبوط اور صحت مند قوم کی بنیاد بنے گی۔
٭حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر خوف کی کیفیت طاری ہے اس میں وہ ممالک جو براہ ِ راست جنگ کا حصہ نہیں ہیں لیکن بالواسطہ طور پر معاشی،معاشرتی اور مسلسل ذہنی ا ضطراب کا شکار ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور پاکستان کی عظیم فوج ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور طاقت رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کا ہر مکتبہ ئ فکر اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص اس عالمی جنگ سے براہ ِ راست بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کڑی آزمائش اپنے ساتھ لے کر آ رہا ہے۔اس خوف کی فضا میں انسان کا ذہن شدید مضطرب بے چین اور غیر متوازن رہنے لگا ہے جسکی وجہ سے انسان منطقی طور پر سوچنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے اور انسانی جسم بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔سر درد،نیند کی کمی اور بلڈ پریشر جیسے عوامل پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔خوف کے ماحول سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے اپنے دماغ کو مثبت پیغام دیں اچھی سوچ رکھیں اسکولز اور کالجز کی سطح پر ذہنی دباؤ کے حوالے سے سیشن منعقد ہونے چاہییں جس سے عوا م میں ذہنی اضطراب اور خود سے نکلنے کے لیے عوام میں آگاہی پیدا ہو جائے۔
٭انسانی تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان بیرونی خطرات سے کم اور اپنے اند ر پیدا ہونے والے خوف سے زیادہ شکست کھاتا ہے خوف اصل میں ایک فطری کیفیت ہے یہ انسان کو محتا ط بناتا ہے،اسے خطرات سے آگاہ کرتا ہے۔مگر جب بھی خوف حد سے بڑھ جائے تو یہ ذہن کو مضطرب،سوچ کو مفلوج اور شخصیت کو کمزور بنا دیتاہے۔غیر یقینی حالات،معاشی دباؤ،مستقبل کے اندیشے اور مسلسل منفی اطلاعات نے انسان کے ذہن کو ایک ایسی بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے جہاں سکون ناپید ہو چکا ہے یہ اضطراب صرف ذہنی کیفیت نہیں بلکہ ایک اجتماعی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔قرآن میں ارشاد ہے
”خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہو تا ہے“ انسان کا دل جب دنیا کے سہاروں سے وابستہ ہو جاتا ہے تو وہ کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ دنیا غیر مستقل ہے مگر جب یہی دل اللہ سے جڑ جائے تو اسے ایک ایساسہارا مل جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔نبی کریم ؐ کی تعلیمات بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں مشکلات، آزمائشیں اور خوف کے لمحات میں صبر،دعا اور امید کو اختیار کرنا یہ وہ عوامل ہیں جو ایک مومن کو اند ر سے مضبوط بناتے ہیں۔ ایک مفکر کی نظر میں انسان کی اصل جنگ باہر کے حالات سے نہیں بلکہ اپنے اندر کے خوف سے ہوتی ہے اسلام اسی جنگ کو جیتنے کا مکمل نظام فراہم کرتاہے۔اگر انسان اپنے دل میں ایمان،ذکراور توّکل کی شمع روشن کر لے تو خوف کی یہ تاریکی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔نجات کا راستہ نہ صرف فکری بیداری میں ہے بلکہ روحانی وابستگی میں بھی ہے کیونکہ ایک مضبوط ذہن کے ساتھ ایک مطمئن دل ہی ایک متوازن اور پُر امن زندگی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
٭خوف دو قسم کاہوتا ہے ایک انسان معاشی طور پر کمزور ہو تو خوف کی فضا جنم لیتی ہے اور دوسرا ملکی حالات کی وجہ سے ذہن مضطرب رہتا ہے یہ بھی آج کل ورلڈ وار ہی ہے جنگی حالات کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت ڈالوڈول ہے۔ ہر طرف خوف کی فضا قائم ہے۔ ہمیں اس خوف کے ماحول سے نکلنے کے لئے اسلامی ممالک میں اتحاد کی فضا قائم کرنا ہو گی اور فرقہ وارانہ تعصب سے نکلنا ہو گا اس مقصد کے حصول کے لیے علمی،سیاسی اور عوامی سطح پرمشترکہ مذاکرات،غلط فہمیوں کا ازالہ اور پر امن بقائے باہمی کے فروغ جیسے اقدامات ضروری ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کا مقابلہ کیا جا سکے۔اگر آج ہم حالات کا جائزہ لیں تو صاف دکھا ئی دیتا ہے کہ عالم ِاسلام کے خلاف ایک غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے۔ہمیں اسلامی ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرنا ہو گا کیونکہ دنیا عقل سے چلتی ہے جذبات سے نہیں۔ہم نے اسلام کو مذہبی تعصب سے پاک رکھنا ہے تب ہم دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
Видео 2026 | Rawalpindi/Islamabad | 7th April | Hamdard Shura Pakistan | Naaem Akram канала Hamdard Foundation Pakistan
محترم اسپیکر نے اجلاس کی کاروائی کا با قاعدہ آغاز کرتے ہوئے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ آج کا عنوان انسان کی ذہنی کیفیت کو مکمل طور پر بیان کرتا ہے کیونکہ آج کا انسان صرف بیرونی مسائل کا شکار نہیں بلکہ اندرونی بے چینی،ذہنی دباؤ اور مسلسل اضطراب میں بھی مبتلا ہے۔ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جو تیزی سے بدل رہی ہے جہاں آ ج کی جدید دنیا میں سہولیات کا اضافہ ہوا ہے وہیں انسان کا سکون بھی بہت متاثر ہوا ہے۔
موضوع پر تفصیلی بحث کے لیے اسپیکر نے فا ضل اراکین شوریٰ کو اظہار ِ خیال کی دعو ت دی۔
٭پاکستان کا قیام ہمارے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہے۔قیا م ِ پاکستان کے بعد آج تک ہم مشکل وقت سے گزر رہے ہیں ہمارے ہاں کوئی مستقل منصوبہ بندی نہیں ہے معیشت میں بھی استحکام نہیں ہے۔پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے پائیدار اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے سیاست میں استحکام بہت ضروری ہے آج کا ہر بچہ اور نوجوان مضطرب ذہن کا شکار ہے۔صبر و شکر کا دامن ہر گز نہ چھوڑیں۔ہمیں سب سے پہلے اپنے گھر کو سکون میں رکھنا ہے اپنے اہل ِ خانہ کے ساتھ وقت گزاریں اور دوستوں کے ساتھ مثبت وقت گزارا جائے جب آپ کا ذہن مثبت سوچ کا حامل ہو گا تو ایک صحت مند معاشرہ کی تشکیل ہوگی اور ایک مضبوط اور صحت مند قوم کی بنیاد بنے گی۔
٭حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر خوف کی کیفیت طاری ہے اس میں وہ ممالک جو براہ ِ راست جنگ کا حصہ نہیں ہیں لیکن بالواسطہ طور پر معاشی،معاشرتی اور مسلسل ذہنی ا ضطراب کا شکار ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور پاکستان کی عظیم فوج ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور طاقت رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کا ہر مکتبہ ئ فکر اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص اس عالمی جنگ سے براہ ِ راست بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کڑی آزمائش اپنے ساتھ لے کر آ رہا ہے۔اس خوف کی فضا میں انسان کا ذہن شدید مضطرب بے چین اور غیر متوازن رہنے لگا ہے جسکی وجہ سے انسان منطقی طور پر سوچنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے اور انسانی جسم بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔سر درد،نیند کی کمی اور بلڈ پریشر جیسے عوامل پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔خوف کے ماحول سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے اپنے دماغ کو مثبت پیغام دیں اچھی سوچ رکھیں اسکولز اور کالجز کی سطح پر ذہنی دباؤ کے حوالے سے سیشن منعقد ہونے چاہییں جس سے عوا م میں ذہنی اضطراب اور خود سے نکلنے کے لیے عوام میں آگاہی پیدا ہو جائے۔
٭انسانی تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان بیرونی خطرات سے کم اور اپنے اند ر پیدا ہونے والے خوف سے زیادہ شکست کھاتا ہے خوف اصل میں ایک فطری کیفیت ہے یہ انسان کو محتا ط بناتا ہے،اسے خطرات سے آگاہ کرتا ہے۔مگر جب بھی خوف حد سے بڑھ جائے تو یہ ذہن کو مضطرب،سوچ کو مفلوج اور شخصیت کو کمزور بنا دیتاہے۔غیر یقینی حالات،معاشی دباؤ،مستقبل کے اندیشے اور مسلسل منفی اطلاعات نے انسان کے ذہن کو ایک ایسی بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے جہاں سکون ناپید ہو چکا ہے یہ اضطراب صرف ذہنی کیفیت نہیں بلکہ ایک اجتماعی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔قرآن میں ارشاد ہے
”خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہو تا ہے“ انسان کا دل جب دنیا کے سہاروں سے وابستہ ہو جاتا ہے تو وہ کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ دنیا غیر مستقل ہے مگر جب یہی دل اللہ سے جڑ جائے تو اسے ایک ایساسہارا مل جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔نبی کریم ؐ کی تعلیمات بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں مشکلات، آزمائشیں اور خوف کے لمحات میں صبر،دعا اور امید کو اختیار کرنا یہ وہ عوامل ہیں جو ایک مومن کو اند ر سے مضبوط بناتے ہیں۔ ایک مفکر کی نظر میں انسان کی اصل جنگ باہر کے حالات سے نہیں بلکہ اپنے اندر کے خوف سے ہوتی ہے اسلام اسی جنگ کو جیتنے کا مکمل نظام فراہم کرتاہے۔اگر انسان اپنے دل میں ایمان،ذکراور توّکل کی شمع روشن کر لے تو خوف کی یہ تاریکی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔نجات کا راستہ نہ صرف فکری بیداری میں ہے بلکہ روحانی وابستگی میں بھی ہے کیونکہ ایک مضبوط ذہن کے ساتھ ایک مطمئن دل ہی ایک متوازن اور پُر امن زندگی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
٭خوف دو قسم کاہوتا ہے ایک انسان معاشی طور پر کمزور ہو تو خوف کی فضا جنم لیتی ہے اور دوسرا ملکی حالات کی وجہ سے ذہن مضطرب رہتا ہے یہ بھی آج کل ورلڈ وار ہی ہے جنگی حالات کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت ڈالوڈول ہے۔ ہر طرف خوف کی فضا قائم ہے۔ ہمیں اس خوف کے ماحول سے نکلنے کے لئے اسلامی ممالک میں اتحاد کی فضا قائم کرنا ہو گی اور فرقہ وارانہ تعصب سے نکلنا ہو گا اس مقصد کے حصول کے لیے علمی،سیاسی اور عوامی سطح پرمشترکہ مذاکرات،غلط فہمیوں کا ازالہ اور پر امن بقائے باہمی کے فروغ جیسے اقدامات ضروری ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کا مقابلہ کیا جا سکے۔اگر آج ہم حالات کا جائزہ لیں تو صاف دکھا ئی دیتا ہے کہ عالم ِاسلام کے خلاف ایک غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے۔ہمیں اسلامی ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرنا ہو گا کیونکہ دنیا عقل سے چلتی ہے جذبات سے نہیں۔ہم نے اسلام کو مذہبی تعصب سے پاک رکھنا ہے تب ہم دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
Видео 2026 | Rawalpindi/Islamabad | 7th April | Hamdard Shura Pakistan | Naaem Akram канала Hamdard Foundation Pakistan
#HamdardShuraPakistan #HamdardFoundationPakistan #ShuraMeeting #YouthLeadership #PakistanYouth #LeadershipDevelopment #HamdardActivities #CommunityEngagement #YouthVoice #FutureLeaders #SocialImpact #EducationalPrograms #HamdardNetwork #PakistanEvents #YouthEmpowerment #HamdardPakistan #Peace #DrSanaGhori #HakeemMuhammadSaeed #ShaheedHakeemMuhammadSaeed #SadiaRashid #HamdardNPO #Waqf #SocialWelfare #HealthAndEducation #HamdardMission #PakistanNGO
Комментарии отсутствуют
Информация о видео
22 апреля 2026 г. 13:30:06
00:06:57
Другие видео канала





















